حافظ محمد ضیاء الدین پیر زادہ
نبذة عن حياته
تعلیمی اسفار: ۱۹۶۵ء میں حصولِ تعلیم کےلئے کراچی آمد، پرائمری ومڈل ایک غیر سرکاری اسکول سے۔
۱۹۶۹ ءمیں حفظِ قرآنِ کریم کیلئے کم عمری میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن (سابقہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن) میں داخل کرایاگیا تھا ، اُس وقت کا ماحول و منظر بھی یادہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ۱۹۷۰ءکی دہائی میں اُس دور کی کئی علاقائی، صوبائی،ملکی، وبین الاقوامی شخصیات، ہر سطح کے مختلف اکابر علمائے کرام ومشائخ عظام،سلوک وطریقت کے ائمہ، دینی وسیاسی قائدین، زُعمائے ملک وملت، عالمی شہرت یافتہ قراء کرام یا دیگر جو حضرات مہمانانِ گرامی جامعہ میں آتے رہے، الحمدللہ! ان سب کی زیارت نصیب ہوتی رہی، اور یہ باعثِ رشک وسعادت ہے، یہ سب حضرت مولاناسید محمد یوسف بنوری صاحب ، اور اُن کے قائم کردہ جامعہ کی برکات تھیں، مختصراً یہ کہ ازہرالہنددارالعلوم دیوبند، جامعہ ازہر مصر،مظاہرالعلوم سہارنپور، ندوۃ العلماء لکھنؤ وغیرہ جیسی جامعات کے اُس دور کے اکابرین وشیوخ کی زیارت سے آنکھیں ٹھنڈی ہوئی ہیں، یقیناًیہ بھی خوش قسمتی ہی ہے کہ حضرت کے والدِ محترم گرامی القدربڑے آغاجی حضرت سید محمد زکریابنوری الحسینی کی زیارت بھی نصیب ہوئی ہے،فن قرأت وتجوید کے اپنے وقت کے ماہرین وائمہ حضرات کو قریب سے دیکھنے، سننے کا موقعہ ملا، شیخ الازہر دکتور عبدالحلیم محمود، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب قاسمی صاحب، حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی،شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد زکریا کاندھلوی ثم المدنی، پیرطریقت مرشدحقانی مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندی ، اور ان جیسی دیگر ہستیوں کا دیدار ہوتا رہا ’’ ‘‘۔
درجہ حفظ کے مشہور اُستاذِ مکرم قاری عبدالرحمن صا حب سے ۱۹۷۰ء میں حفظ مکمل کیا۔
بعد ازاں ۱۹۷۱ء سے ابتدائی درجات کی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن میں حاصل کی، دورانِ تعلیم چند سال فترت وانقطاع رہا۔
یہ بھی واضح رہے کہ بندہ ایک سال جامعہ دار العلوم کراچی میں زیرِ تعلیم رہا، جبکہ بانئ دار العلوم کراچی مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب بقیدِ حیات تھے، اور درسِ نظامی کی تکمیل جامعہ فاروقیہ کراچی سے کی۔
۱۹۷۵ء میں جامع مسجد سی ۔ پی برار سوسائٹی عالمگیر روڈ کراچی میں بحیثیت مؤذن تقرر ہوا، سات سال تک اذان دیتا رہا، ساتھ ہی اللہ تعالی کے گھر کی کچھ خدمت بھی انجام دیتا رہا۔
۱۹۸۲ء میں سابقہ امام مسجد کی وفات کے بعد سے بعض احباب بالخصوص بھائی واصف منظور صاحب کے اصرار پر بادلِ نخواستہ ہی امامت کے فرائض انجام دینا شروع کئے۔
اس اثناء میں علاقائی، صوبائی، ملکی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی تحریکات میں اپنی بساط کے مطابق وابستگی رکھی، اور تعاون علی البر والتقویٰ کا سلسلہ جاری رہا، افغان مجاہدین اور چیچنیا وفلسطینی تحریک آزادی سے خصوصی تعلق وتعاون رہا۔
گویا کہ شعوری زندگی کی ابتداء اُس وقت کے فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان سے موجودہ مسلط فیلڈ مارشل (جنرل عاصم منیر) تک کئی عشروں میں ملکی اور عالمی سطح پر بڑا اتار چڑھاؤ، عروج وزوال دیکھا۔
مسجد کے نمازیوں کے حالات وواقعات، مسائل ومشکلات دیکھتے سنتے سنتے پانچ (۵) دہائیاں بیت گیئں، اپنے خاندانی حالات، قرب وجوار، دوست واحباب اور متعلقین کے تقریباً ہر قسم کے احوال، ومسائل ومشکلات اوروقعات دیکھنے سننے کو ملے، اور حلِ قضایا کےلئے اپنی بساط کے مطابق کاوشیں بھی جاری رہیں، پھر علاقائی، صوبائی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تبدیلئ حالات، حکام کے عروج وزوال، ان کی منافقت اور کرپشن کے ناقابلِ تصور واقعات دیکھے سنے، گویا پچاس سالہ تاریخ ذہن میں مستحضر ہوتی رہی۔
چونکہ احقر کا تعلق ہر قسم کے اشخاص وجماعات سے رہا ہے، نصف صدی کے عرصہ میں لقگ اپنے ذاتی وشخصی اور سماجی مسائل، گھریلو اور خاندانی جھگڑے ومعلاملات، اخلاقی وکاروباری مسائل ومشکلات میں راہنمائی کےلئے رجوع کرتے رہے، ان کے مختلف الانواع حالات، مسائل ومشکلات سے آگاہی ہوتی رہی، ان کا دردِ دل سن کر فکر مندی اور اصلاحِ احوال کےلئے کاوش ہوتی رہی۔
اسی طرح علاقائی، صوبائی، وفاقی اور عالمی حالات کا بغور جائزہ ومشاہدہ ہوتا رہا، اور مختلف جماعتوں، تحریکوں وتنظیموں کے ذمہ داران سے بھی متعلقہ امور ومسائل پر گفت وشنید ہوتی رہی، اور ان کے حل کےلئے کاوشیں بھی جاری رہیں۔
ملک میں برسرِ اقتدار طبقہ کے حالات، سیاست، ریاست اور سیاستدانوں، نام نہاد دیندار وبےدین جماعتوں، تنظیموں، تحریکوں کے احوال کو قریب سے دیکھنے سننے کا موقعہ ملا۔
وقتًا فوقتًا مقتدرہ کی تبدیلی، احوال، معیشت، اقتصادیات، معاشرت واخلاق کے انحطاط کو بخوبی دیکھا، اور اس پر بےچینی، دلی ناگواری کے ساتھ اس کی بہتری کےلئے اپنی حد تک کاوش کا جذبہ بقدرِ ہمت محرک رہا۔
مختلف جماعتوں وگمراہ کن طبقات واشخاص کو قریب سے دیکھا۔
فقیرنے عرصۂ امامت میں جن عقائد و اعمال پر محافظت کا اہتمام کیا اور ان پر زور دیتا رہا، وہ چونکہ قرآن و سنت اور اجماع امت وطریق سلف صالحین کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے تھا، اکابرین امت اور بالخصوص صحابہ کرام کے مسلک ومنہج سے مطابقت کی وجہ سے تھا، اس لئے تمام تر خواہشات، وخدشات کو پسِ پشت ڈال کر استقامت وعزیمت کی راہ کو اپنایا، تاکہ خود اپنا اور متعلقین كا ایمان بھی محفوظ وبرقرار رہے، اور یقیناً ہمارے موقف ميں كفراوركفارپرشدت صحابہ كرام كے وصف ﴿أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ﴾ كامظہر تھی،یہ صفت ہرغیور صاحبِ ایمان میں راسخ ہونی چاہئے، ایمان كے ساتھ غیرتِ ایمانی بھی بہت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ فقیر مسلک ومشرب اورمذہب کے معاملہ میں نرم خو ومعتدل مزاج وسیع الظرف،جبکہ دینی ونظریاتی اُمور میں متصلب بنیاد پرست رہا، جاندارکی تصویرکی حرمت متفق علیہ ہے، اس میں کسی صاحبِ بصیرت، قابل ذکر عالم وفقیہ کااختلاف نہیں ہے، اس لئے ناگزیر مجبوری وشدید عذركے بغیر اس سے حتی الوسع اجتناب کیاجائے،کسی وقت اس کی قباحت وشناعت کا یہ عالم تھا ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایک عام دنیادار بگڑاہوا آدمی بھی کوئی تصویر کھینچتے ہوئے ڈرتاتھا،کسی نے دیکھ لیا توبے عزتی ہوگی، لیکن اب دینداربلکہ عالم ومفتی کہلانے والے بھی شوقیہ تصویرسازی کو معمولی بات سمجھتےہیں، بلکہ اب یہ معاملہ اللہ کے گھر مسجد ومدرسہ کی توہین تک پہنچ گیا، اس سے بڑھ کرمسجدومدرسہ میں ’’ختم بخاری‘‘ کی تقریبات کو باقاعدہ اہتمام سے فلمایا جاتا ہے، حالانکہ ’’بخاری‘‘ کی ’’ کتاب اللباس، باب التصاویر‘‘ کے ذیل میں کئی احادیث ۸۸تا۹۴ مستقل اسی عنوان سے متعلق موجود ہیں، جن میں اس پر شدید قسم کی وعیدیں موجودہیں جو اس کی حرمت، قباحت وشناعت کو واضح کرتی ہیں، اس کے علاوہ آخری حدیث سے پہلے بھی ایک روایت موجود ہے، فیاللعجب ویاللأسف! واناللہ وانا الیہ راجعون، واضح رہے کہ ابتلائے عام یاعموم بلوی کی وجہ سے ہرعمل جائز وحلال نہیں ہوجاتا، ہمیں شریعت کو اورشریعت پر گامزن اصحابِ ورع وتقوی کے عمل کو دیکھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔
الحمدللہ! اللہ تبارک وتعالی نے فقیرکو وقت کے اکابرعلماء ومشائخ، زعماء ملت، اورعالم اسلام کی نامی گرامی ان ہستیوں سے بھی شرف ملاقات کا موقعہ دیا جو علم وعمل وعرفان واخلاص کے پیکرمجسم تھے،علوم وفنون کے أساطین تھے،اور بالخصوص وہ جوتوکل ویقین کے کوہ ہمالیہ اوراستقامت وعزیمت کے جبال راسیات تھے، شاعرمشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ کاکلام انہی جیسوں پر صادق ومنطبق ہوتاہے کہ ’’ملک جاتاہےتوجائے تونہ کر حق سےبے وفائی‘‘،یعنی عالم عرب وعجم کی وہ دونابغہ روزگارعظیم ہستیاں بھی شامل ہیں جن کے نام کی ہیبت ودھاک دنیائے کفر کیلئے کافی ہے ، اور دوست ودشمن دونوں کیلئے نام ہی کافی ہے،یعنی امیرالمؤمنین ملا محمدعمر مجاہد،اور شیخ ابوحمزہ اسامہ بن لادن رحمہما اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ، اورخاص کر امیرالمؤمنین ملا محمدمجاہد سے ملاقات فخریہ اعزاز ہے، کیونکہ وہ کسی کافر ومنافق سے نہیں ملتے تھے ، الحمدللہ دونوں حضرات سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی ہے، اورعرب شہزادے شیخ اسامہ بن لادن کے ساتھ تو ایک تھال میں کھانا بھی کھایا، اورطویل نشست بھی رہی، ذلک فضل اللہ ۔
الحمدللہ ثم الحمد للہ! اس عاجزپر اللہ تعالی کے عظیم الشان وخصوصی احسانات میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے مجھ ناکارہ کو کروڑہا کروڑ انسانوں سے اچھے حال میں رکھا، اور یہ بھی کہ کسی بھی ایسے فرد کے احسان سے محفوظ رکھا جس کا احسان ہمارا سرجھکاتا، یا احقاق حق وابطال باطل میں رکاوٹ بنتا، یقیناً یہ پرور دگارکا بهت بڑا احسان وانعام اورفضل ہے۔
الحمد للہ! اللہ تبارك وتعالی کے فضل وکرم سے ۱۹۸۷ءمىں فقیركو مکہ مكرمہ ميں بھی اذان وامامت کا شرف حاصل رہا ہے،یہ سب محض فضل الہی تھا، والدہ محترمہ مشفقہ کی دعائیں، اوراکابرکی عنایات وتوجہات بھی شامل رہیں، مرحوم ومغفور بھائی واصف منظورصاحب کی سرپرستی اور مشاورت بھی حاصل رہی۔
تحدیث بالنعمۃ کے طورپرعرض ہے كہ فقیر کو مدینہ منوره کے اسفارمیں الله تعالی نے مسجدنبوی کے حلقاتِ دروس میں مئذنہ کے قریب تر اپنےدور کے جليل القدرمحدث،وفقيہ ، اورقاضی، عالم ربانی شیخ عمر محمد فلاتہ سے ’’صحیح مسلم‘‘ کے کئی اسباق پابندی سے پڑھنے کا شرف عطا فرمایاہے،وه رسول الله ﷺ كى حديث بيان كرتے ہوئے جب روضہ اقدس كی طرف اشاره كرتے ہوئے یوں گویاہوتے ’’قال صاحب هذا القبر الأعظم ﷺ‘‘ تو پورے حلقہ درس میں ایك عجیب کیف وسماں كاعالم ہوجاتاتھا۔
اسی طرح نمازفجرکے بعدمسجدنبوی کی ابتدائی صفوف میں قائم حلقات برائے تجوید ودروس قرآنیہ میں بھی عملی شرکت کی سعادت حاصل رہی ہے، ذلک فضل الله ۔
احقرطویل عرصے سے تصنیف وتأ لیف کے کام سے وابستہ رہا ہے، اور سالہا سال کی انتھک محنت و جانفشانی سے ہزاروں صفحات، وموضوعات مختلفہ پر مشتمل اردو عربی میں بہت بڑا ذخیرہ انسائیکلوپیڈیا جمع کیا ہے،آئندہ آنیوالی نسلوں کیلئے بہترین علمی ذخیرہ ہے،اس کی تبویب و ترتیب اور تہذیب کا کام چل رہا ہے، ہر ایک کی ضرورت و دلچسپی کا ہرموضوع زیرِ بحث رہا ہے، وقتًا فوقتًا بدلتے ہوئے حالات، سوالات،پیش آمدہ اشكالات، اعتراضات، شكوك وشبہات کے مدلل ومبرہن جوابات، غرضیکہ دین و دنیا سے متعلق علم اور معلومات کا وافر ذخیرہ جمع كياہے،سالہاسال کی شب وروزلگاتار محنت کی، جو نہ صرف طلباء علماء بلكہ ہرشعبہ وميدان كے باشعور طبقہ کیلئے بہترین مواد پر مشتمل ہے، ایسے ایسے اہم ونادراور محیرالعقول عنوانات ومضامین ہیں کہ احاطہ تصور وگمان سے باہرہیں، تاہم ان کی اشاعت میرے جیسے کےلئے بظاہرناممکن ہے، اور اس کام پر اب تک بلامبالغہ اموال طائلہ وھائلہ صرف ہوچکے ہیں، فی الحال اس کو ڈیجیٹل آن لائن محفوظ کرنے اور افادہ عام کےلئے اس طرح شائع کرنے کا ارادہ ہے، بعد میں اگر کوئی صاحبِ خیرکسی عنوان سے متعلق مواد کو اپنے طور پر خود، یا ادارے کی طرف سے اشاعت کا ارادہ رکھتے ہوں تو بلا کم وکاست اس کو شائع و نشر کر سکتے ہیں،یہ کام ہم نے بھی برائے صدقہ جاریہ اپنےبعدکے لئے کیا ہے۔
نسب سے متعلق ضروری وضاحت: راقم آثم مؤلف کتاب، حقیر سراپا تقصیر اگرچہ علم وعمل سے تہی دامن اور ذاتی اعمال وکردار کے اعتبار سے اپنے اکابر کے نام پربدنما داغ ہے، تاہم اسلاف واکابر امت سے عقیدت ومحبت کی پونجی ضرور کسی درجہ میں محفوظ رکھی ہے، اور نسبی شرافت بھی حاصل ہے، اور شاید ہی نہیں بلکہ یقیناً یہ اسی عقیدت ومحبت اور نسبی شرافت کی برکات اور اسی کے اثرات وثمرات ہیں جو آج ایک کتابی شکل میں پیش ہیں۔
اگر چہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عمل وکردار صحیح نہ ہو تو اللہ تعالی کے ہاں حسب و نسب کی کوئی حیثیت نہیں ہے، تاہم یہ بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ نسبی شرافت امر تکوینی ہے جو منجانب اللہ کسی کو حاصل ہوتی ہے، اور ربِّ ذو الجلال کا عطیہ خاص ہے۔
(این سعادت بزور بازو نیست ) اور بہت سے مسائل شرعیہ میں نسب کا گہرا تعلق بھی ہے، اس لئے ضروری ہوا کہ اس کی قدرے وضاحت بھی کردی جائے تاکہ اس سلسلہ میں سوالات واشکالات کا خاتمہ ہو، اور آئندہ آنیوالی نسل کو بھی اپنا سلسلہ نسب یاد رہے، اور وہ اس شرافت نسبی کی لاج رکھے اور شرافت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھے، کیونکہ اپنے اسلاف سے عملی وابستگی ہی باعث فخر ہوسکتی ہے۔
امام العصر رئیس المحدثین استاذالعلماء حضرت علامہ انورشاہ کشمیری کے والد محترم مولانا معظم شاہ اور ہمارے پردادا مولانا موسی شاہ دونوں حقیقی بھائی تھے، چنانچہ اس تعلق ورشتہ کے اعتبار سے ہمارے دادا عبد اللہ شاہ مرحوم اور علامہ انورشاہ کشمیری باہم سگے چچا زاد بھائی ہوئے۔
اللہ تعالی جل شانہ ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے ان اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ ( آمین یا رب العالمین)
من الكتب
8
الترجمات
566